حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی کے یہ واقعات ایسے ہیں کہ جب بھی ذکر ہوتے ہیں تو دل میں عشق و محبت کی چنگاریاں
بھڑک اٹھتی ہیں، آنکھوں میں عقیدت کے دیپ جل اٹھتے ہیں، اور زبان پر حمد و ثناء کے نغمے چھڑ جاتے ہیں۔
واقعہ خیبر کا دروازہ اکھاڑنا
جب خیبر کی وہ بلند و بالا فصیلیں مسلمانوں کے قدموں کو روکنے لگیں، جب دشمن کے قلعے کی مضبوط دیواریں مسلمانوں کے حوصلے کو آزمانے لگیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری کی روشنی نے اندھیروں کو چیر ڈالا۔ ان کی آنکھوں میں ایمان کی روشنی تھی، دل میں عشقِ رسول کی تپش تھی، اور ہاتھ میں ذوالفقار کی بجلی تھی۔ انہوں نے خیبر کے بھاری دروازے کو یوں اکھاڑ پھینکا جیسے کوئی بادل کی چمک سے پردے ہٹا دے، اور پھر دشمن کے دلوں میں وہ خوف و ہراس بھرا کہ وہ دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
واقعہ فدک
فدک کی زمین، جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو ملی، اس زمین کی مٹی میں محبت اور وفا کے بیج بوئے گئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس وراثت کو ایسے سنبھالا جیسے کوئی عاشق اپنی محبوبہ کے خط سنبھالتا ہے۔ ان کے دل میں فاطمہ کی یادیں تھیں، ان کی آنکھوں میں وفا کے خواب تھے، اور ان کی زبان پر اللہ کی حمد و ثناء تھی۔ انہوں نے اس زمین کو مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا، تاکہ آنے والی نسلیں ان کی قربانیوں کو یاد رکھیں۔
واقعہ ذوالفقار
ذوالفقار، وہ تلوار جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا کی تھی، وہ تلوار جو بہادری کی علامت بن گئی، وہ تلوار جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی بن گئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس تلوار کے ساتھ کئی جنگوں میں ایسے کارنامے انجام دیے کہ دشمن کے دل دہل گئے، اور مسلمانوں کے دل عشق و ایمان سے بھر گئے۔ ان کی ہر وار میں عشقِ رسول کی شدت تھی، ان کے ہر قدم میں ایمان کی مضبوطی تھی، اور ان کے ہر نعرے میں اللہ کی وحدانیت کی گونج تھی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی کی ان کہانیوں میں ہمیں سچائی، وفا، بہادری اور ایمان کی وہ چمک ملتی ہے جو ہمارے دلوں کو روشن کرتی ہے، ہماری روحوں کو تازگی بخشتی ہے، اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عشقِ علی کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوتی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید چمکتی جاتی ہے۔
آج بھی جب ہم ان واقعات کو یاد کرتے ہیں تو دلوں میں ایمان کی شمعیں روشن ہو جاتی ہیں، آنکھوں میں عقیدت کے دیپ جل اٹھتے ہیں، اور زبان پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں حمد و ثناء کے نغمے چھڑ جاتے ہیں۔ وہ لمحے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کے دین کے لیے اپنی جان کی بازی لگائی، وہ لمحے جب انہوں نے محبت اور وفا کے رشتے مضبوط کیے، وہ لمحے جب ان کی تلوار نے حق و باطل کا فیصلہ کیا، وہ لمحے ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

0 Comments