اسلام قبول کرنا: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے پہلے بالغ مرد تھے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی دعوت کو قبول کیا۔

2. **خلافت: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔


غار ثور کا واقعہ: ہجرت کے دوران نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غار ثور میں تین دن چھپے رہے۔


غزوات میں شرکت: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تمام اہم غزوات میں شرکت کی اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہر موقع پر موجود رہے۔


سخاوت: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام کی راہ میں اپنی ساری دولت خرچ کر دی۔


صدیق کا لقب: حضرت ابو بکر کو ان کی صداقت اور نیکی کی وجہ سے "صدیق" کا لقب دیا گیا۔


رومی سلطنت سے جنگ: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلامی فوج نے رومی سلطنت کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔


فتنہ ارتداد کا مقابل: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتنہ ارتداد کا بھرپور مقابلہ کیا اور اسلام کو مستحکم کیا۔


قرآن مجید کی تدوین: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پر قرآن مجید کو ایک کتابی شکل میں جمع کیا گیا۔

وفات: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات 22 جمادی الثانی، 13 ہجری کو ہوئی اور انہیں نبی اکرم ﷺ کے پہلو  1 میں دفن کیا گیا۔